Thursday, 9 December 2021

جب نگاہوں میں ہو نکہتوں کی سی خو تب انہیں سوچنا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جب نگاہوں میں ہو نکہتوں کی سی خو تب اُنہیں سوچنا

درد محرابِ جاں، آنکھ ہو باوضو تب انہیںؐ سوچنا

روشنی کے حوالوں سے لکھنا وہ اسمِ جمالِ بشر

بارشِ رنگ ہو، پھول ہوں چار سُو تب انہیں سوچنا

جن کا مداح ہے خالقِ دو جہاں، مالکِ ہر مکاں

حرف سے ماورا ہو سکے گفتگو تب انہیں سوچنا

دھیان کی لہر جو اس قدم تک گئی، دل کی معراج ہے

زندگی کے اجالوں کی ہو آرزو تب انہیں سوچنا

اب ستارے مژہ پر نہ رک پائیں گے، ہے یہ شہرِ نبیؐ

کہکشاں جب ہو زیر قدم چار سو تب انہیں سوچنا

وہ وقارِ زماں، افتخارِ زمیں، تابِ کون و مکاںﷺ

ذرے ذرے میں دیکھو جو حسنِ نمو تب انہیں سوچنا

ایک ہی لمحۂ شوقِ بے تاب کو عمر بھر دیکھنا

التجاؤں میں ہو ایک ہی رنگ و بو تب انہیں سوچنا

انؐ کے در کے سوا اور پہچان کوئی ہماری نہیں

چاہو اپنی نگاہوں میں جب آبرو تب انہیں سوچنا

وہ محیطِ کرم، وہ نویدِ عطا، مجھ سے دل نے کہا

ڈھونڈتی ہو اگر دشتِ میں آبجو تب انہیں سوچنا


ادا جعفری

No comments:

Post a Comment