ہماری زبان اردو
اردو ہے جو زبان وہ شیریں زبان ہے
تہذیب کی ہے آن تمدن کی شان ہے
اردو زبان ساری زبانوں کی جان ہے
سب بولیاں زمیں تو یہ آسمان ہے
اپنائے جو دوستو! اردو زبان کو
روکے گا پھر نہ کوئی تمہاری اڑان کو
تہذیبیں پل رہی ہیں کئی اس زبان سے
لگتے ہیں جوش آج بھی اک نوجون سے
اقبال جی رہے ہیں بڑی آن بان سے
غالب کا نام اردو بھی لیتی ہے شان سے
اردو کو دے دی زندگی، آباد کر دیا
غالب نے اردو دانوں کا دل شاد کر دیا
ہیں اردو دان آج کے دیکھو کمال کے
کہتے ہیں سب سے اردو کو رکھنا سنبھال کے
خود بیٹھے زندگی سے ہیں اردو نکال کے
نہ قوم کے رہے نہ یہ اہل و عیال کے
اردو پہ ظلم کر کے بھی یہ اردو دان ہیں
جن میں نہ ہو مکین یہ ایسے مکان ہیں
اردو مُدرّسوں کا تمہیں کیا سنائیں حال
انگریزی مَدرسوں میں پڑھیں ان کے نونہال
کہتے ہیں ہم سے؛ ہم کو نہیں اردو کا خیال
دیکھے نہ ہم نے دہر میں ایسے نمک حلال
اردو کی روٹی کھاتے ہیں اردو سے بَیر ہے
جو بولے اردو ان کی نظر میں وہ غیر ہے
کیا جانتے نہیں، ہے یہ اردو کا مرتبہ
اردو زباں ہے جانِ ادب، علم کی ضیا
تہذیب جس پہ ناز کرے ایسی دلربا
اے شعر و شاعری کی دل و جان مرحبا
انسانیت کا رشتہ بخوبی نبھاتی ہے
ہر قوم کو گلے سے یہ اپنے لگاتی ہے
اردو زبان کرتی ہے حامد یہ التماس
اس ماں کا دل خدا کے لیے نہ کرو اداس
گر مادری زبان کا تھوڑا ہے تم کو پاس
تم رکھنا اپنی ماں کو سدا اپنے دل کے پاس
حلالِ مشکلات ہوں، اردو ہے میرا نام
کشتی کو سب کی پار لگانا ہے میرا نام
حامد باقری
No comments:
Post a Comment