اور ظلمت نے کہا
ان جفاکار اجالوں کے طرحدار غلاف
اپنے آباء کے خد و خال چھپا سکتے ہیں
وقت کی وحشی و سفاک نگاہوں کے شرار
ناچ سکتے ہیں مِرے سینے پہ، گا سکتے ہیں
میں نے دیکھے ہیں مگر نور کے یہ لوچ، یہ خم
کب یہاں رقص گہِ منبر و محراب نہ تھی
کب نہ جھلکائیں تقدس نے جبینیں اپنی
کب یہی آنکھ، یہی آب، یہی تاب نہ تھی
یہی انساں، جسے قابیل نے خوں میں گوندھا
مِری جھنکار پہ کھو جاتا ہے، گُھل جاتا ہے
کھلبلا دیتا ہے یزداں کے سنہری تانے
اور یہ بنتا ہوا راز بھی کُھل جاتا ہے
منزلیں آئیں، ابھرتے رہے آدم کے حبیب
زاہد و فلسفی و مُلا و درویش و حکیم
داؤ لگتے رہے، چڑھتے رہے نورانی غلاف
مِرے سرمست دھوئیں کی وہ مگر طنز سلیم
لیٹ کر روح کے ابریشمی غالیچے پر
پا کے ایمائے فلک، رمزِ خداوندِ عظیم
مسکراتا ہی رہا دیکھ کے سعئ جمال
یاد کرتے ہوئے انساں کی وفا ہائے قدیم
فکر تونسوی
No comments:
Post a Comment