Wednesday, 7 October 2020

مسکراہٹیں ہیں وہ کرم

 مسکراہٹیں


مسکراہٹیں ہیں وہ کرم کہ جس کا ریشہ

استوارِ ازل میں ہے

ابد بھی جس کے ایک ایک پل میں ہے

کبھی ہیں سہوِ گفتگو

کبھی اشارۂ خرد، کبھی شرارۂ جنوں

کبھی ہیں رازِ اندروں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ پارہ ہائے ناں بنیں

وہ مسکراہٹیں بھی ہیں کہ برگِ زر فشاں بنیں

کبود رنگ، زرد رنگ، نیلگوں

کبھی ہیں پیشہ ور کا التہابِ خوں

کبھی ہیں رس، کبھی ہیں مے

کبھی ہیں کارگر کا رنگِ خے

کبھی ہیں سنگِ رہ

کبھی ہیں راہ کا نشاں

کبھی ہیں پشتِ پا پہ چور بن کے گامزن

کبھی فریبِ جستجو

کبھی یہی فراقِ لب، کبھی یہی وصالِ جاں

مگر ہمیشہ سے وہی کرم

کہ جس کا ریشہ استوار ازل میں ہے


ن م راشد

No comments:

Post a Comment