Wednesday, 11 November 2020

رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن

 رقص کی رات


رقص کی رات کسی غمزۂ عریاں کی کرن

اس لیے بن نہ سکی راہِ تمنا کی دلیل

کہ ابھی دور کسی دیس میں اک ننھا چراغ

جس سے تنویر مرے سینۂ غمناک میں ہے

ٹمٹماتا ہے اس اندیشے میں شاید کہ سحر ہو جائے

اور کوئی لوٹ کے آ ہی نہ سکے

رقص کی رات کوئی دَورِ طرب

بن نہ سکتا تھا ستاروں کی خدائی گردش

محورِ حال بھی ہو، جادۂ آئندہ بھی

اور دونوں میں وہ پیوستگئ شوق بھی ہو

جو کبھی ساحل و دریا میں نہ تھی

پھر بھی حائل رہے یوں بُعدِ عظیم

لب ہلیں اور سخن آغاز نہ ہو

ہاتھ بڑھ جائیں مگر لامسہ بے جان رہے

تجھے معلوم نہیں

اب بھی ہر صبح دریچے میں سے یوں جھانکتا ہوں

جیسے ٹوٹے ہوئے تختے سے کوئی تِیرہ نصیب

سخت طوفان میں حسرت سے افق کو دیکھے

کاش ابھر آئے کہیں سے وہ سفینہ جو مجھے

اس غمِ مرگِ تہِ آب سے آزاد کرے

رقص کی شب کی ملاقات سے اتنا تو ہوا

دامنِ زیست سے میں آج بھی وابستہ ہوں

لیکن اس تختۂ نازک سے یہ امید کہاں

کہ یہ چشم و لبِ ساحل کو کبھی چوم سکے


ن م راشد

No comments:

Post a Comment