Wednesday, 11 November 2020

اب نہ ان اونچے مکانوں میں قدم رکھوں گا

 اسی دوراہے پر


اب نہ ان اونچے مکانوں میں قدم رکھوں گا

میں نے اک بار یہ پہلے بھی قسم کھائی تھی

اپنی نادار محبت کی شکستوں کے طفیل

زندگی پہلے بھی شرمائی تھی جھنجلائی تھی


اور یہ عہد کیا تھا کہ بہ اِیں حالِ تباہ

اب کبھی پیار بھرے گیت نہیں گاؤں گا

کسی چلمن نے پکارا بھی تو بڑھ جاؤں گا

کوئی دروازہ کھلا بھی تو پلٹ آؤں گا


پھر ترے کانپتے ہونٹوں کی فسوں کار ہنسی

جال بُننے لگی، بُنتی رہی، بُنتی ہی رہی

میں کھنچا تجھ سے مگر تُو مری راہوں کے لیے

پھول چُنتی رہی، چُنتی رہی، چُنتی ہی رہی


برف برسائی مرے ذہن و تصور نے مگر

دل میں اک شعلۂ بے نام سا لہرا ہی گیا

تیری چپ چاپ نگاہوں کو سلگتے پا کر

میری بیزار طبیعت کو بھی پیار آ ہی گیا


اپنی بدلی ہوئی نظروں کے تقاضے نہ چھپا

میں اس انداز کا مفہوم سمجھ سکتا ہوں

تیرے زرکار دریچوں کی بلندی کی قسم

اپنے اقدام کا مقسوم سمجھ سکتا ہوں


اب نہ ان اونچے مکانوں میں قدم رکھوں گا

میں نے اک بار یہ پہلے بھی قسم کھائی تھی

اسی سرمایہ و افلاس کے دوراہے پر

زندگی پہلے بھی شرمائی تھی جھنجلائی تھی


ساحر لدھیانوی

No comments:

Post a Comment