Friday, 6 January 2017

اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں

اے عشق یہ سب دنیا والے بے کار کی باتیں کرتے ہیں
پائل کے غموں کا علم نہیں، جھنکار کی باتیں کرتے ہیں
ہر دل میں چھپا ہے تیر کوئی، ہر پاؤں میں ہے زنجیر کوئی
پوچھے کوئی ان سے غم کے مزے جو پیار کی باتیں کرتے ہیں
الفت کے نئے دیوانوں کو کس طرح سے کوئی سمجھائے
نظروں پہ لگی ہے پابندی،۔۔ دیدار کی باتیں کرتے ہیں
بھنورے ہیں اگر مدہوش تو کیا، پروانے بھی ہیں خاموش تو کیا
سب پیار کے نغمے گاتے ہیں، سب یار کی باتیں کرتے ہیں

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment