داغِ دل، زخمِ جگر ہے، نعمت الوانِ عشق
سیر اپنی جان سے ہو جاتے ہیں مہمانِ عشق
نعمت دنیا کو کر دیتا ہے تلخ اس کا مزا
شیرۂ جاں سے ہے شیریں حلوۂ دکانِ عشق
زلفِ لیلیٰ سے سوا ہر سطر سودا خیز تھی
حق یہی مذہب ہے باطل ہے جو ہے اسکے خلاف
مردِ مومن ہے وہی، لایا ہے جو ایمانِ عشق
نام دو مشہور ہیں شہر حسیناں میں مرے
بندۂ احسانِ عشق، و تابع فرمانِ عشق
ہو مبارک تم کو مصحف کی تلاوت زاہدو
دو جہاں بھولے ہوئے ہیں حافظِ قرآنِ عشق
دل جگر داغوں سے دونوں میں دکان صراف کی
کشورِ تن میں ہے جاری، سکۂ سلطانِ عشق
تولتے ہیں موتیوں میں اشکِ حسنِ یار کو
دونوں آنکھیں اپنی ہیں دو پلۂ میزانِ عشق
سیر ہو جاتے ہیں ایسے بھوک پھر لگتی نہیں
زہر دیتا ہے نمک خواروں کو اپنے خوانِ عشق
ایک دن تیری کمر کا طوق ہوں گے ان کے ہاتھ
اے صنم تائید غیبی رکھتے ہیں مردانِ عشق
ارغوانی اشک ہیں، تو زعفرانی رنگ ہے
اپنے خاطر ہے مہیا آج کل سامانِ عشق
قطع ہو جاتے ہیں دنیا کے تعلق یک قلم
چھٹ گیا وہ ہو گیا جو قیدئ زندانِ عشق
دو جہاں میں آتشؔ اس سے کوئی شے بہتر نہیں
وصف جو کچھ کیجیے اعلیٰ ہے اس سے شانِ عشق
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment