چاند کہتا ہے غلط یار کے رخساروں کو
نسبتِ ذرۂ خورشید نہیں تاروں کو
اے صنم ہووے نہ خورشید قیامت طالع
دھوپ میں تو نہ بٹھا اپنے گنہگاروں کو
حسنِ یوسف کو ترے حسن سے نسبت کیا ہے
داغ چیچک کے ترے چاند سے منہ پر دیکھے
پہلوئے ماہ میں دیکھا جو نہ ہو تاروں کو
ہوں وہ مردودِ خلائق کہ یقیں ہے پسِ مرگ
سہو ہو فاتحہ خیرات مرے یاروں کو
اے بتو دل میں تمہارے جو اثر ہو تو ہو
زلزلے آئے ہیں اِن نالوں سے کہساروں کو
یار بن مجھ کو چمن ہو گیا آتش خانہ
برگِ گل سے نہ رہا مرتبہ انگاروں کو
عید قربان ہے، ہزاروں ہی گلے کٹتے ہیں
تو بھی آزاد کر اَب اپنے گرفتاروں کو
اے اجل جسم سے چھٹ بھی چکے جان شیریں
زندگی تلخ ہوئی ہے مِرے غم خواروں کو
اپنی بیماری کی حالت وہ صحت سمجھے
دیکھے نرگس جو تِری چشم کے بیماروں کو
منہ نہیں پھرنے کا قاتل کی طرف سے میرا
چہرے پر کھاؤں گا میں یار کو تلواروں کو
جان گھبراتی ہے سینے میں تو دل کہتا ہے
توڑیئے قلعۂ فولاد کی دیواروں کو
کوئی انساں سے سوا سخت نہ پایا ہم نے
موت آئی نہ شبِ ہجر کے بیداروں کو
اپنے ہاتھوں سے کیا جب مجھے بیدرد نے قتل
غیر تو مر ہی گئے داغ رہا یاروں کو
جا کے اس باغ سے کیا یاد کریں گے آتشؔ
چشمِ تر ہم کو ملی، خشک زباں خاروں کو
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment