Monday, 16 January 2017

سر کاٹ کے کر دیجیے قاتل کے حوالے

سر کاٹ کے کر دیجیے قاتل کے حوالے
ہمت مری کہتی ہے کہ اِحسان بلا لے
ہر قطرۂ خوں سوز دروں سے ہے اک اخگر
جلاد کی تلوار میں پڑ جائیں گے چھالے
یوں دیتے ہیں وہ عاشقِ بے صبر کو بوسہ 
جیسے کوئی صدقہ کرے بھوکے کے حوالے
شمشیر پھر اے ترک نہیں تیغ یہ تیری
سیفی ہے، مِرے سر کی بلا کو جو نہ ٹالے
نادان نہ ہو، عقل عطا کی ہے خدا نے
یوسفؑ کی طرح تم کو کوئی بیچ نہ ڈالے
نقاشِ ازل نے تِری تصویر میں رکھے 
اندازِ رخ و زلف زمانے سے نرالے
ہستی کی اسیری سے، شرر سے ہیں سوا تنگ
چھوٹے تو پھر اِدھر کو نہیں دیکھنے والے
سالک کو یہی جادے سے آواز ہے آتی
پامال جو ہو راہ وہ منزل کی نکالے
کچھ اور لبِ یار کی تعریف کروں کیا
وہ لعل کو دیکھے سے پڑیں جان کے لالے
گردِ رخِ زیبا رہیں کیوں کر نہ وہ زلفیں
دو سانپ حفاظت کو ہیں اک گنج کے پالے
صیاد چمن ہی میں کرے مرغِ چمن ذبح
لبریز لہو سے بھی درختوں کے ہوں تھالے
پیغام اجل ہوتے ہیں اس عشق کے صدمے
پالا نفسِ سرد سے اللہ نہ ڈالے
دشمن سے سمجھتے ہیں ہم اس دوست کو بدتر
مشتاق کو منہ اپنا دکھا کر جو چھپا لے
مضمون ہے تو شمع رخ یار کا آتشؔ
شاعر ہے اسے فکر کے سانچے میں جو ڈھالے

حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment