Tuesday, 20 July 2021

وحشی تھے بوئے گل کی طرح سے جہاں میں ہم

وحشی تھے بُوئے گُل کی طرح سے جہاں میں ہم 

نکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم 

شیدائے رُوئے گُل نہ ہیں شیدائے قد سرُو 

صیّاد کے شکار ہیں اس بُوستاں میں ہم 

نکلی لبوں سے آہ کہ گردُوں نشانہ تھا 

گویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم 

آلودۂ گُناہ ہے اپنا ریاض بھی 

شب کاٹتے ہیں جاگ کے مغ کی دُکاں میں ہم 

ہمت پسِ فنا سبب ذکرِ خیر ہے 

مردوں کا نام سنتے ہیں ہر داستاں میں ہم 

آتش سخن کی قدر زمانے سے اُٹھ گئی 

مقدور ہو تو قُفل لگائیں دہاں میں ہم 


حیدر علی آتش

No comments:

Post a Comment