عشق کے سودے سے پہلے دردِ سر کوئی نہ تھا
داغِ دل خندہ زن،۔ زخمِ جگر کوئی نہ تھا
جوہری کی آنکھ سے دیکھے جواہر بیشتر
لعلِ لب سا لعل، دنداں سا گُہر کوئی نہ تھا
خوبصورت یوں تو بہتیرے تھے، لیکن یار سا
نازنیں، نازک بدن، نازک کمر، کوئی نہ تھا
رہ گئی دل ہی میں اپنے حسرتِ اظہارِ شوق
لکھ کے خط جب ہم نے ڈھونڈا، نامہ بر کوئی نہ تھا
دوست، دشمن، یار رکھتا، خاطر اپنی کیا عزیز
عیبِ الفت کے سوا، ہم میں ہنر کوئی نہ تھا
دیدہ و دل تھے منور تیرے نورِ حُسن سے
جلوہ فرما ہو نہ تُو جس میں وہ گھر کوئی نہ تھا
عشق کس کو حسنِ دلکش سے نہ تھا، اے جانِ جاں
فکر سے غافل تِری، جِن و بشر کوئی نہ تھا
چاشنی دونوں کی چکھی ہے جو حق حق پوچھیے
ان لبِ شیرِیں سے شیرِیں نیشکر کوئی نہ تھا
لے چلے ہستی سے داغِ عشقِ آتش، شکر ہے
منزِلِ ملکِ عدم کا، ہمسفر کوئی نہ تھا
حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment