کوچۂ یار میں چلیے تو غزل خواں چلیے
بلبلِ مست کی صورت سے گلستاں چلیے
دن کو ملتا نہیں وہ ماہ، نہیں تو کہتا
رات بھر کے لیے، گھر میں مِرے مہماں چلیے
پاؤں میں تار ہے رفتار کی طاقت باقی
زلف میں لعلِ لبِ یار کا مشتاق ہے دل
ہند سے کوچ جو کیجے تو بدخشاں چلیے
شوق صحرا کا جو ہوتا ہے تو کہتا ہے جنوں
تیغ کی طرح سے میدان میں عریاں چلیے
دَم فنا کیجیے اپنا، نفسِ سرو کے ساتھ
ٹھنڈے ٹھنڈے، طرفِ گورِ غرِیباں چلیے
کافرِ عشق، فرشتے کی نہیں سنتے ہیں
کس سے کہتا ہے وہ غارت گرِ ایماں چلیے
ہاتھ سے ہاتھ چھڑا کر وہ گئے ہیں جب سے
قصہ، رہتا ہے یہی پاؤں کو، یاں واں چلیے
رہنما جوشِ جنوں سا ہے بہارِ گُل میں
طوق و زنجیر پہن لیجیے، زِنداں چلیے
زلف کے سودے میں اک عمر بسر کی آتش
بس، بہت دیکھ چکے خوابِ پریشاں، چلیے
خواجہ حیدر علی آتش
No comments:
Post a Comment