Sunday, 9 August 2020

مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں

مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں
بہت سے خواب ان دیکھے پڑے ہیں
یہاں لوگوں کی عادت اور سی ہے
میرے اندر تو پاگل پن بڑے ہیں
یہاں آ کر تو پیاسا مر گیا ہوں
سنا تھا شہر میں دریا چڑھے ہیں
ہوا نے اس قدر دھوکہ دیا ہے
کہ انساں سانس تک روکے کھڑے ہیں
ہمیں ہی پار کرنا ہے یہ دریا
اگرچہ ہاتھ میں کچے گھڑے ہیں

افتخار قیصر

No comments:

Post a Comment