مسائل اپنی آنکھوں کے بڑے ہیں
بہت سے خواب ان دیکھے پڑے ہیں
یہاں لوگوں کی عادت اور سی ہے
میرے اندر تو پاگل پن بڑے ہیں
یہاں آ کر تو پیاسا مر گیا ہوں
ہوا نے اس قدر دھوکہ دیا ہے
کہ انساں سانس تک روکے کھڑے ہیں
ہمیں ہی پار کرنا ہے یہ دریا
اگرچہ ہاتھ میں کچے گھڑے ہیں
افتخار قیصر
No comments:
Post a Comment