ہم صورتِ حالات سے آگے نہ جا سکے
گویا کہ اپنی ذات سے آگے نہ جاسکے
مدت ہوئی ہے گولڈن دن کی تلاش میں
تا حال کالی رات سے آگے نہ جا سکے
ہم کو بھی اچھی قسم کے کھانوں کی ریجھ ہے
پر اپنے ساگ پات سے آگے نہ جا سکے
کوشش تو ہم نے بہت کی اونچے مقام کی
گھر کے بنیرا جات سے آگے نہ جا سکے
غیروں نے ایجادات سے دنیا کو سُکھ دئیے
ہم ہیں کہ مسلہ جات سے آگے نہ جا سکے
آگے نہ جانے دیں گے نہ ہم خود ہی جائیں گے
ہم ان بکھیڑا جات سے آگے نہ جا سکے
چسکا پڑا ہوا ہے ہمیں شعر کا تبھی
ہم فعل و فاعلات سے آگے نہ جا سکے
عبیر ابوذری
No comments:
Post a Comment