Monday, 13 December 2021

اپنی کتاب عمر کا انجام لکھ دیا

 اپنی کتابِ عمر کا انجام لِکھ دیا

پہلے ورق پہ میں نے تِرا نام لکھ دیا

میں لکھنا چاہتا تھا کوئی پھول سی غزل

اور جب لکھا تو صرف تِرا نام لکھ دیا

دل نے تِرے سوا نہ کوئی بات کی قبول 

سب کچھ بنامِ گردشِ ایام لکھ دیا 

رسوائیوں کے موڑ پہ تنہا کھڑا ہوں میں 

اپنا گناہ سب نے مِرے نام لکھ دیا 

ہم ایسے بے گھروں نے جہاں بھی کیا قیام 

خط کھینچ کے وہیں پہ در و بام لکھ دیا 

معصوم مجھ کو اس نے کیا آئینہ مزاج 

لیکن مِرے نصیب میں الزام لکھ دیا 


معصوم انصاری

No comments:

Post a Comment