Monday, 13 December 2021

جبین عرش پہ کچھ آب و تاب باقی ہے

 جبینِ عرش پہ کچھ آب و تاب باقی ہے

جو آفتاب نہیں، ماہتاب باقی ہے

رکھے امید مسافر، یہ دھوپ کم ہو گی

کہ آسماں پہ ابھی کچھ سحاب باقی ہے

بہا کے لے تو گیا، کشتیوں کو سیلِ رواں

نگاہِ تشنہ میں اب موجِ آب باقی ہے

میں جاگ کر بھی حقیقت کو کس طرح جانوں

درونِ خواب، ابھی ایک خواب باقی ہے

جو اس سے پوچھنا چاہا، مگر نہ پوچھ سکا

اسی سوال کا اب تک جواب باقی ہے

سزا ملی ہے مجھے نیکیوں کے بدلے میں

مِرے حساب میں عالم ثواب باقی ہے


انتخاب عالم

چانگ شی شوان

No comments:

Post a Comment