Monday, 13 December 2021

ان کی چشم کرم کے طلبگار ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ان کی چشمِ کرم کے طلبگار ہیں

سر بسر اب تو ہم شوقِ دیدار ہیں

یادِ محبوبﷺ میں محوِ اذکار ہیں

اُن کے عشاق کیسے طرحدار ہیں

کم نصیبوں کو دنیا نے ٹھکرا دیا

کملی والے مگر سب کے غمخوار ہیں

پا شکستہ چلا ہوں میں اُن کی طرف

یہ مری خوش نصیبی کے آثار ہیں

رحمتِ دو جہاں، رحمتِ دو جہاں

ہم گنہ گار ہیں، ہم گنہ گار ہیں

کتنے خوش بخت ہیں جن کا کوئی نہیں

کن کا کوئی نہیں، ان کے سرکارؐ ہیں

روز و شب وقف مدحت ہیں قلب و نظر

اب مری خلوتیں خلد آثار ہیں


مسعود اختر

No comments:

Post a Comment