Saturday, 17 April 2021

جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے

 جگنو ہوا میں لے کے اجالے نکل پڑے

یوں تیرگی سے لڑنے جیالے نکل پڑے

سچ بولنا محال تھا اتنا کہ ایک دن

سورج کی بھی زبان پہ چھالے نکل پڑے

اتنا نہ سوچ مجھ کو ذرا دیکھ آئینہ

آنکھوں کے گرد حلقے بھی کالے نکل پڑے

محفل میں سب کے بیچ تھا ذکر بہار کل

پھر جانے کیسے تیرے حوالے نکل پڑے


فیاض فاروقی

No comments:

Post a Comment