بیٹھی ہے بال کھولے ہوئے میرے پاس شب
آئی ہے کون شہر سے اتنی اداس شب
میں چپ رہی تو رات نے بھی ہونٹ سی لیے
میں اس کا پیرہن ہوں تو میرا لباس شب
گھر جلد لوٹ کر بھی تو منظر وہی رہا
شاید کہ کل کی صبح قیامت ہی بن کے آئے
اتری ہے جسم و جان پہ بن کر ہراس شب
سورج کو دیکھنے کا سلیقہ کہاں ہمیں
جب بھی نظر اٹھائی، رہی آس پاس شب
اے ماہ و مہرِ حسن، تِرے عہد میں کبھی
دِن ہی ہمیں خوش آئے نہ آئی ہے راس شب
مدت کے بعد چاند نے دستک بدن پہ دی
پھر حجلۂ حیات میں آئی ہے خاص شب
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment