Thursday, 3 December 2015

بیٹھی ہے بال کھولے ہوئے میرے پاس شب

بیٹھی ہے بال کھولے ہوئے میرے پاس شب
آئی ہے کون شہر سے اتنی اداس شب
میں چپ رہی تو رات نے بھی ہونٹ سی لیے
میں اس کا پیرہن ہوں تو میرا لباس شب
گھر جلد لوٹ کر بھی تو منظر وہی رہا
ویسی ہی سرد شام، وہی ناسپاس شب
شاید کہ کل کی صبح قیامت ہی بن کے آئے
اتری ہے جسم و جان پہ بن کر ہراس شب
سورج کو دیکھنے کا سلیقہ کہاں ہمیں
جب بھی نظر اٹھائی، رہی آس پاس شب
اے ماہ و مہرِ حسن، تِرے عہد میں کبھی
دِن ہی ہمیں خوش آئے نہ آئی ہے راس شب
مدت کے بعد چاند نے دستک بدن پہ دی
پھر حجلۂ حیات میں آئی ہے خاص شب

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment