وہ مجھ سے ہُوئے ہمکلام اللہ اللہ
کہاں میں کہاں یہ مقام، اللہ اللہ
یہ رُوئے درخشاں، یہ زُلفوں کے سائے
یہ ہنگامۂ صُبح و شام، اللہ اللہ
یہ جلووں کی تابانیوں کا تسلسل
وہ سہما ہُوا آنسوؤں کا تلاطم
وہ آبِ رواں بے خرام، اللہ اللہ
شبِ وصل کی ساعتیں مختصر سی
تمناؤں کا اژدحام، اللہ اللہ
وہ ضبطِ سخن میں لبوں کی خموشی
نظر کا وہ لطفِ کلام، اللہ اللہ
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment