Friday, 4 December 2015

مجھے موت کیوں نہ آئی تری بے رخی سے پہلے

مجھے موت کیوں نہ آئی تِری بے رخی سے پہلے
کوئی غم نہیں تھا مجھ کو غمِ عاشقی سے پہلے
نہ ملا تھا پیار سے تُو کسی اجنبی سے پہلے
نہ کوئی تھا میرا دشمن تِری دوستی سے پہلے
میرے دل کو تُو نے توڑا نہ کہیں کا مجھ کو چھوڑا
میری زندگی میں آیا بڑی سادگی سے پہلے
میں خوشی کے چار دن بھی نہیں دیکھ پایا ظالم
تیرے غم نے مار ڈالا مجھے زندگی سے پہلے
میں چراغؔ کی تمنا لیے جب بھی گھر سے نکلا
ملی رات کی سیاہی مجھے روشنی سے پہلے

چراغ جے پوری

No comments:

Post a Comment