مجھے موت کیوں نہ آئی تِری بے رخی سے پہلے
کوئی غم نہیں تھا مجھ کو غمِ عاشقی سے پہلے
نہ ملا تھا پیار سے تُو کسی اجنبی سے پہلے
نہ کوئی تھا میرا دشمن تِری دوستی سے پہلے
میرے دل کو تُو نے توڑا نہ کہیں کا مجھ کو چھوڑا
میں خوشی کے چار دن بھی نہیں دیکھ پایا ظالم
تیرے غم نے مار ڈالا مجھے زندگی سے پہلے
میں چراغؔ کی تمنا لیے جب بھی گھر سے نکلا
ملی رات کی سیاہی مجھے روشنی سے پہلے
چراغ جے پوری
No comments:
Post a Comment