سوئے ہیں جو درد جگا دوں آخر کیوں
اشکوں کی سوغات لُٹا دوں آخر کیوں
دنیا کا تو کام ہی باتیں کرنا ہے
سن کر خود کو روز سزا دوں آخر کیوں
چلتا پھرتا ایک تماشا بن جاؤں
اپنے من کا بھید بتا دوں آخر کیوں
دیکھ کے جس کو میری دھڑکن چلتی ہے
دل سے وہ تصویر ہٹا دوں آخر کیوں
شیریں میں بھی لوگوں جیسی ہو جاؤں
یوں اپنا معیار گرا دوں آخر کیوں
شیریں سید
No comments:
Post a Comment