کبھی ساکت نہیں رہتی
زندگی کا مزاج اپنا ہے
یہ لہروں کی طرح شوریدہ سر ہے
اُبھرتی ڈوبتی ہے پھر اُبھرتی ہے
ہوا کے دوش چلتی ہے
ہوا اُونچا اُڑاتی ہے
کبھی ساکت نہیں رہتی
ہماری دُور اندیشی
کئی منظر بدلتی ہے
ہم اپنے خوف کے ہاتھوں
سبھی بند باندھ لیتے ہیں
مگر یہ سرکشی اپنی دِکھاتی ہے
کئی بھونچال لاتی ہے
کبھی ساکت نہیں رہتی
سحر حسن
No comments:
Post a Comment