Sunday, 5 December 2021

زندگی کا مزاج اپنا ہے یہ کبھی ساکت نہیں رہتی

کبھی ساکت نہیں رہتی


زندگی کا مزاج اپنا ہے

یہ لہروں کی طرح شوریدہ سر ہے

اُبھرتی ڈوبتی ہے پھر اُبھرتی ہے

ہوا کے دوش چلتی ہے

ہوا اُونچا اُڑاتی ہے

کبھی ساکت نہیں رہتی

ہماری دُور اندیشی

کئی منظر بدلتی ہے

ہم اپنے خوف کے ہاتھوں

سبھی بند باندھ لیتے ہیں

مگر یہ سرکشی اپنی دِکھاتی ہے

کئی بھونچال لاتی ہے

کبھی ساکت نہیں رہتی


سحر حسن

No comments:

Post a Comment