اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی
سو ہم سے غمِ یار کی عزت نہیں ہوتی
لاحق ہو جنہیں اپنوں سے ہی جان کا خطرہ
ان کے لیے کوئی صبر کی آیت نہیں ہوتی
ماں باپ کو یہ کہہ کے نکالا گیا گھر سے
اب ہم سے مزید آپ کی خدمت نہیں ہوتی
ہر رات مرے دل پہ گزرتی ہے قیامت
یہ کیسی اداسی ہے جو رخصت نہیں ہوتی
ہم لوگ یونہی بیٹھ گئے تھے پئے رونق
بازار میں ہر چیز کی قیمت نہیں ہوتی
کرن منتہیٰ
No comments:
Post a Comment