آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں
آپ کے حکم پہ خود پر بھی جفا کرتے ہیں
آپ کا ساتھ نباہا تھا خوشی میں، غم میں
آپ کی یاد بھی اب دل سے جدا کرتے ہیں
وصل میں آپ کے تو آدمی بھی نہ بن سکے
آپ سے ہو کے جدا خود کو خدا کرتے ہیں
اب نہ وہ ہم ہیں نہ تم ہو نہ تمہاری یادیں
اب نہ روتے ہیں نہ ہسنتے ہیں، جیا کرتے ہیں
پاس امیس تھی وہ بھی نہ رہی اب تو اویس
یاد ہر لمحے بس اب روزِ جزا کرتے ہیں
محمد اویس خاں
No comments:
Post a Comment