Wednesday, 30 September 2026

سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

 سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے

نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں

ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے

جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں

کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے

بنایا جاتا ہوں مرغا میں جس دن اپنے مکتب میں

تو اس دن درد سے یہ دل بہت ناشاد ہوتا ہے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ مقصد کیا ہے پڑھنے کا

مزہ بھی کچھ نہیں ہے وقت بھی برباد ہوتا ہے

خدا کے فضل سے جس دن بخار آتا ہے ٹیچر کو

تو اس دن اپنا مکتب بھی بہت آباد ہوتا ہے

جو حلوہ رکھ کے الماری میں آپی بند کرتی ہیں

کھلاتی ہیں نہ کھاتی ہیں پڑا برباد ہوتا ہے

اگر ہوں مہرباں ٹیچر تو تم دیکھو گے اے نوری

سبق جس کو نہیں ہو یاد وہ بھی شاد ہوتا ہے


مشتاق احمد نوری

No comments:

Post a Comment