Wednesday, 30 September 2026

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے

کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی

سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے

ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح

ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے

نفرت کے جس پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوں میں

وہ ساری کائنات پہ پھیلا ہوا سا ہے

گھر میں دھواں بھرا ہے کہ بیٹھوں تو دم گھٹے

باہر تمام شہر سلگتا ہوا سا ہے

ہاں میں غنودگی کے دھندلکے میں ہوں اسیر

ہاں میرا ذہن صدیوں کا جاگا ہوا سا ہے


منظر سلیم

No comments:

Post a Comment