Monday, 5 June 2023

کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

 کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا

خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا

خدا نے اس طرح کلمے میں اعتراف کیا

کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا

نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی

تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا

جس ایک حکم سے تخلیق دو جہاں کی ہوئی

اس ایک حکم میں اجماعِ نون و کاف کیا

جلا کے چھوڑا پتنگے کو شمع نے آخر

اگرچہ اس نے بہت دور سے اعتکاف کیا

گنہہ سمجھ کے گنہہ کب کیا ہے آدمؑ نے

عروض زیست میں تبدیل اک زحاف کیا

کہاں سے کوہ میں فرہاد جوئے شیر آتی

جو کام تو نے کیا عقل کے خلاف کیا

دم ان کا بھرتا ہے رہ کر ہمارے پہلو میں

بڑا قصور ہے دل کا مگر معاف کیا

پچھاڑنے کے لیے آئے تھے جو لوگ مجھے

پچھڑ گئے تو مرے فن کا اعتراف کیا

سگِ نجس میں صفائی یہ کس بلا کی ہے

جہاں بھی بیٹھا ہے پہلے جگہ کو صاف کیا

خود اس کا گھر بھی بہا سب گھروں کے ساتھ عدیل

ندی کے بند میں جس شخص نے شگاف کیا


نظیر علی عدیل

No comments:

Post a Comment