کسی کی چاہ کا دل نے جب اعتراف کیا
خرد نے کیوں نہیں معلوم اختلاف کیا
خدا نے اس طرح کلمے میں اعتراف کیا
کہ اپنے نام سے اس نام کو مضاف کیا
نہ پائی شہر میں جب اپنے دل کی یکسوئی
تو جا کے دشت میں مجنوں نے اعتکاف کیا
جس ایک حکم سے تخلیق دو جہاں کی ہوئی
اس ایک حکم میں اجماعِ نون و کاف کیا
جلا کے چھوڑا پتنگے کو شمع نے آخر
اگرچہ اس نے بہت دور سے اعتکاف کیا
گنہہ سمجھ کے گنہہ کب کیا ہے آدمؑ نے
عروض زیست میں تبدیل اک زحاف کیا
کہاں سے کوہ میں فرہاد جوئے شیر آتی
جو کام تو نے کیا عقل کے خلاف کیا
دم ان کا بھرتا ہے رہ کر ہمارے پہلو میں
بڑا قصور ہے دل کا مگر معاف کیا
پچھاڑنے کے لیے آئے تھے جو لوگ مجھے
پچھڑ گئے تو مرے فن کا اعتراف کیا
سگِ نجس میں صفائی یہ کس بلا کی ہے
جہاں بھی بیٹھا ہے پہلے جگہ کو صاف کیا
خود اس کا گھر بھی بہا سب گھروں کے ساتھ عدیل
ندی کے بند میں جس شخص نے شگاف کیا
نظیر علی عدیل
No comments:
Post a Comment