ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے
پھر اس نے بلایا ہے کچھ دال میں کالا ہے
ہے سارا جہاں اس کا یہ فرق ہے مگر کیسا
ایک سمت اندھیرا ہے، اک سمت اُجالا ہے
للّٰه نہ تم آنا اب میرے خیالوں میں
میں نے دلِ مضطر کو مشکل سے سنبھالا ہے
تجھ سے یہ میرا ملنا بن جاتا نہ افسانہ
اپنوں نے ہوا دی ہے غیروں نے اچھالا ہے
ناحق ہے گلہ تم کو، اوروں سے تغافل کا
تم نے بھی تو لوگوں کو وعدوں ہی پہ ڈالا ہے
جس دل کے لیے ہم نے لاکھوں ہیں ستم جھیلے
الجھن میں عمر! ہم کو، اس دل ہی نے ڈالا ہے
عمر قریشی
No comments:
Post a Comment