Monday, 5 June 2023

ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے

 ظالم کی جفاؤں کا انداز نرالا ہے

پھر اس نے بلایا ہے کچھ دال میں کالا ہے

ہے سارا جہاں اس کا یہ فرق ہے مگر کیسا

ایک سمت اندھیرا ہے، اک سمت اُجالا ہے

للّٰه نہ تم آنا اب میرے خیالوں میں

میں نے دلِ مضطر کو مشکل سے سنبھالا ہے

تجھ سے یہ میرا ملنا بن جاتا نہ افسانہ

اپنوں نے ہوا دی ہے غیروں نے اچھالا ہے

ناحق ہے گلہ تم کو، اوروں سے تغافل کا

تم نے بھی تو لوگوں کو وعدوں ہی پہ ڈالا ہے

جس دل کے لیے ہم نے لاکھوں ہیں ستم جھیلے

الجھن میں عمر! ہم کو، اس دل ہی نے ڈالا ہے


عمر قریشی

No comments:

Post a Comment