Monday, 5 June 2023

آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی تیری یاد آ گئی

 آمدِ فصلِ گُل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی، تیری یاد آ گئی

دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی، تیری یاد آ گئی

پھر کتابِ گزشتہ کے اوراق نظروں کے آگے پریشان پھرنے لگے

رُت بدلنے لگی، دل میں چپکے سے اک آگ جلنے لگی، تیری یاد آ گئی

دُور تک لہلہاتے ہوئے رقص کرتے ہوئے پھول ہیں میری تنہائی ہے

آج دل میں کسی ساتھ کی آرزو جب مچلنے لگی، تیری یاد آ گئی

سب طیور اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے، اک بہانہ ہوئے

دل کی افسردگی میں اضافہ ہوا، شام ڈھلنے لگی، تیری یاد آ گئی

رات آخر ہوئی، درد افزوں ہوا، آنکھ سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی

شام ہی سے عجب کیفیت تھی مِری، جاں نکلنے لگی، تیری یاد آ گئی


رفیق احمد نقش

No comments:

Post a Comment