آمدِ فصلِ گُل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی، تیری یاد آ گئی
دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی، تیری یاد آ گئی
پھر کتابِ گزشتہ کے اوراق نظروں کے آگے پریشان پھرنے لگے
رُت بدلنے لگی، دل میں چپکے سے اک آگ جلنے لگی، تیری یاد آ گئی
دُور تک لہلہاتے ہوئے رقص کرتے ہوئے پھول ہیں میری تنہائی ہے
آج دل میں کسی ساتھ کی آرزو جب مچلنے لگی، تیری یاد آ گئی
سب طیور اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب روانہ ہوئے، اک بہانہ ہوئے
دل کی افسردگی میں اضافہ ہوا، شام ڈھلنے لگی، تیری یاد آ گئی
رات آخر ہوئی، درد افزوں ہوا، آنکھ سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی
شام ہی سے عجب کیفیت تھی مِری، جاں نکلنے لگی، تیری یاد آ گئی
رفیق احمد نقش
No comments:
Post a Comment