کیے جاتا ہے تماشا تِری رعنائی کا
کیا کلیجہ ہے حقیقت میں تماشائی کا
رکھ بھرم یا رب محشر میں دل شیدائی کا
حشر تو اک بڑا بازار ہے رُسوائی کا
حُسن نے کر دیا قابیل کو اندھا، ورنہ
خون کرتا نہ کبھی اپنے سگے بھائی کا
اصل میں ہاتھ وہ دُشمن کی طرف اُٹھتے تھے
دیکھنے والوں کو دھوکہ ہوا انگڑائی کا
آگے دیوانہ گیا، رہ گئے دانا پیچھے
قصۂ دار میں نُکتہ ہے یہ دانائی کا
زیست کی جنگ میں ہم ہار تو دیں گے لیکن
کوئی امکاں نہیں ہے کہیں پسپائی کا
کیا کریں گے وہ مسیحائی مریضِ غم کی
تجربہ ہی نہیں جب ان کو مسیحائی کا
شہر میں کس لیے آ کر نہیں رہتا مجنوں
داخلہ بند نہیں ہے کسی صحرائی کا
ہر جگہ اور ہر اک ذرے میں جب ہیں موجود
نام کیوں ان کو نہیں گوارا نہیں ہرجائی کا
وہ نظر آئے تو دیکھیں گے سنبھل کر اس کو
ہم ہیں موسیٰ نہ کوئی زعم ہے بینائی کا
نہ میسر ہوا اب تک کسی لشکر کو عدیل
وہ جو انداز ہے مژگاں کی صف آرائی کا
نظیر علی عدیل
No comments:
Post a Comment