یہاں کانپ جاتے ہیں فلسفی یہ بڑا عجیب مقام ہے
جسے اپنا اپنا خدا کہیں، اسے سجدہ کرنا حرام ہے
مِری بے رُخی سے نہ ہو خفا، مِرے ناصحا! مجھے یہ بتا
جو نظر سے پیتا ہوں میں یہاں، وہ شراب کیسے حرام ہے
جو پتنگا لَو پہ فِدا ہُوا تو تڑپ کے شمع نے یہ کہا
شبِ انتظار میں بارہا، مجھے انورؔ ایسا گماں ہوا
جسے موت کہتا ہے یہ جہاں، وہ کسی کے وعدے کا نام ہے
انور مرزا پوری
No comments:
Post a Comment