Saturday, 7 November 2015

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا! بس ابھی رنگِ محفل بدل جائے گا
ہے جو بیہوش وہ ہوش میں آئے گا، گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا
لوگ سمجھے تھے یہ انقلاب آتے ہی نظمِ کہنہ چمن کا بدل جائے گا
یہ خبر کس کو تھی آتشِ گُل سے ہی، تنکا تنکا نشیمن کا جل جائے گا
تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو، وقت کچھ میرے مرنے کا ٹل جائے گا
کیا یہ کم ہے مسیحا کے رہنے ہی سے، موت کا بھی ارادہ بدل جائے گا
تیر کی جاں ہے دل، دل کی جاں تیر ہے، تیر کو یوں نہ کھینچو کہا مان لو
تیر کھینچا تو دل بھی نکل آئے گا، دل جو نکلا تو دَم بھی نکل جائے گا
ایک مدت ہوئی اس کو روئے ہوئے، ایک عرصہ ہوا مسکرائے ہوئے
ضبطِ غم کا اب اور اس سے وعدہ نہ ہو، ورنہ بیمار کا دَم نکل جائے گا
اپنے پردے کا رکھنا ہے گر کچھ بھرم، سامنے آنا جانا مناسب نہیں
ایک وحشی سے یہ چھیڑ اچھی نہیں، کیا کرو گے اگر یہ مچل جائے گا
اپنے وعدے کا احساس ہے تو مگر، دیکھ کر تم کو آنسو امنڈ آئے ہیں
اور اگر تم کو یہ بھی گوارہ نہیں، ابر برسے بغیر اب نکل جائے گا
میرا دامن تو جل ہی چکا ہے مگر، آنچ تم پر آئے، گوارہ نہیں
میرے آنسو نہ پونچھو خدا کے لیے، ورنہ دامن تمہارا بھی جل جائے گا
دل میں تازہ غمِ آشیاں ہے ابھی، میرے نالوں سے برہم نہ صیاد ہو
دھیرے دھیرے یہ آنسو بھی تھم جائیں گے، رفتہ رفتہ یہ دل بھی بہل جائے گا
میری فریاد سے وہ تڑپ جائیں گے، میری دِل کو ملال اِس کا ہو گا، مگر
کیا یہ کم ہے کہ وہ بے نقاب آئیں گے، مرنے والے کا ارماں نکل جائے گا
پھول کچھ اس طرح سے توڑ دے باغباں، شاخ ہلنے نہ پائے، نہ آواز ہو
ورنہ گُلشن پہ رونق نہ پھر آئے گی، دِل اگر ہر کسی کا دہل جائے گا
اس کے ہنسنے میں رونے کا انداز ہے، خاک اڑانے میں فریاد کا راز ہے
اس کو چھیڑو نہ انورؔ خدا کے لیے، ورنہ، بیمار کا دَم نکل جائے گا

انور مرزا پوری

No comments:

Post a Comment