خستگی
جو ناخنوں سے کھرچ رہی ہے
سفید بالوں سے خستگی کو
وہ جس کے چہرے پہ بل پڑا ہے
شباب مغرب کو چل پڑا ہے
ہماری بستی کی وہ ضعیفہ
ادھیڑ عمری سے ٹھیک پہلے
حسین و دل کش پری نما تھی
مگر یہ حسن و شباب اس کا
ادھیڑ عمری میں ڈھل چکا ہے
تو بات کچھ اس طرح ہے مالک
ہمارے دل میں بھی اک حسینہ
حسین و دلکش پری نما ہے
تُو اس سے آنکھیں نہ پھیر مالک
شبابِ جاناں کی خیر مالک
بڑا تماشا بنا ہوا ہے
شہزاد مہدی
No comments:
Post a Comment