نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے
ملی ہوئی مجھے ورثے میں یہ شرافت ہے
دھڑکنے لگتا ہے دل یہ عجیب شدت سے
نگاہ ملنا بھی ان سے عجب مصیبت ہے
پھر اُس کے بعد یہ دل لمس مانگتا ہے میاں
حسین چہروں کو تکنا بڑی اذیت ہے
وہ زلف کھول دے اپنی کبھی جو محفل میں
تمام دیکھنے والے کہیں قیامت ہے
جو تیرے ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوں میں محفوظ
تو پھر بتا یہ تِری کیسی بادشاہت ہے
طاہر تنولی
No comments:
Post a Comment