Saturday, 6 March 2021

نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے

 نظر جھکا کے گزرنا جو میری عادت ہے

ملی ہوئی مجھے ورثے میں یہ شرافت ہے

دھڑکنے لگتا ہے دل یہ عجیب شدت سے

نگاہ ملنا بھی ان سے عجب مصیبت ہے

پھر اُس کے بعد یہ دل لمس مانگتا ہے میاں

حسین چہروں کو تکنا بڑی اذیت ہے

وہ زلف کھول دے اپنی کبھی جو محفل میں

تمام دیکھنے والے کہیں قیامت ہے

جو تیرے ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوں میں محفوظ

تو پھر بتا یہ تِری کیسی بادشاہت ہے


طاہر تنولی

No comments:

Post a Comment