سوئی رہی ہے ساری خدائی تمام شب
دیتا رہا ہے کوئی دُہائی تمام شب
جس کے لیے عدیم سجائی تمام شب
اس نے تو شکل بھی نہ دکھائی تمام شب
شاید پہل اسی کی طرف سے ہو بات کی
اس انتظار میں ہی گنوائی تمام شب
پلکوں پہ میں نے جشن چراغاں کئے رکھا
میں نے تمہاری یاد منائی تمام شب
دھوئیں تِری جدائی کے خط کی سیاہیاں
تحریر آنسوؤں سے مٹائی تمام شب
اِک اِک ستارہ سامنے میرے جڑا گیا
لگتا تھا جیسے میں نے بنائی تمام شب
تاروں کا رات سارے فلک پر ہجوم تھا
وہ چاند تھا کہ دیکھنے آئی تمام شب
چادر سیاہ، اس پہ ستارے بھی، چاند بھی
اس نے تو اپنے سر پہ سجائی تمام شب
تاروں کے جسم صبح کی چادر سے ڈھانپ کر
میں نے سحر کے وقت سُلائی تمام شب
عدیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment