نفرت کا سندیسہ ہے، مذہب کا بہانہ ہے
ذہنوں میں جہالت ہے، وحشت کا زمانہ ہے
چن چن کے صدہا تنکے اس گھر کو بنایا تھا
اپنوں نے جلایا ہے، بس اتنا فسانہ ہے
صیاد نے پر نوچے، قاتل نے گلا کاٹا
کھولی تھی زباں میں نے، پوچھا تھا کہ دانا ہے
اک داغ ہے سینے میں، دو اشک ہیں آنکھوں میں
مفلس نہ مجھے سمجھو، یہ میرا خزانہ ہے
عارف نقوی
No comments:
Post a Comment