نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا
وہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا
اگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانند
تو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا
قرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہے
ادھر سے بھر دیا مے نے نگاہ کا ساغر
ادھر سے زلف کا حلقہ گلے کا جال ہوا
بہارِ حسن وہ آئی نظر جو اس کی نظیرؔ
تو دل وہیں چمنِ عشق میں نہال ہوا
نظیر اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment