Sunday, 25 December 2016

نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا

نگہ کے سامنے اس کا جونہی جمال ہوا
وہ دل ہی جانے ہے اس دم جو دل کا حال ہوا
اگر کہوں میں کہ چمکا وہ برق کی مانند
تو کب مثل ہے یہ اس کی جو بے مثال ہوا
قرار و ہوش کا جانا تو کس شمار میں ہے
غرض پھر آپ میں آنا مجھے محال ہوا
ادھر سے بھر دیا مے نے نگاہ کا ساغر
ادھر سے زلف کا حلقہ گلے کا جال ہوا
بہارِ حسن وہ آئی نظر جو اس کی نظیرؔ
تو دل وہیں چمنِ عشق میں نہال ہوا

نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment