تُو مِرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
ہر نئی راہ سے میں پوچھتا ہوں
اے مِری صبح سفر شام حیات
تُو مِرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
کیا ٹھہر جائے گی اِک موڑ پہ کچھ گام کے بعد
سرگرانی بھی رہی چلتا رہوں گا پھر بھی
اے مِری راہ نجات و ظلمات
تُو مِرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
عظمتِ صبح اندھیروں نے نگل لی ہے مگر
قصرِ امید میں پھیلا ہے اجالا پھر بھی
چاند گہنا گیا افکار کا، حالات زبوں، دہر ملول
گرد اس کے ہے مگر نور کا ہالہ پھر بھی
کون سے موڑ پہ چھوڑے گی مجھے کچھ تو بتا
اے مِری گرمئ جذبات کہاں تک جاؤں
میں تِرے ساتھ کہاں تک جاؤں
تُو مِرا ساتھ کہاں تک دے گی؟
اختر الایمان
No comments:
Post a Comment