Sunday, 25 December 2016

شب ماہ تو ہے سحر بھی تو

شبِ ماہ تُو ہے، سحر بھی تُو
کہ فغاں بھی تُو ہے، اثر بھی تُو
یہ تِری بہار کے دن سہی
یہ تِرے نکھار کے دن سہی
نہ مٹا کسی کو سنبھل سنبھل
سرِ راہ یوں نہ بہک کے چل
کہ زمیں پہ رہتے ہیں اور بھی
جنہیں حسن سے بھی لگاؤ ہے
جنہیں زندگی بھی عزیز ہے

اختر الایمان

1 comment: