نہ زہر خند لبوں پر، نہ آنکھ میں آنسو
نہ زخم ہاۓ دروں کو ہے جستجوۓ مآل
نہ تیرگی کا تلاطم، نہ سیل رنگ و نور
نہ خار زار تمنا، نہ گمرہی کا خیال
نہ آتشِ گل و لالہ کا داغ سینے میں
نہ اشتیاق، نہ حیرت، نہ اضطراب، نہ سوگ
سکوتِ شام میں کھوئی ہوئی کہانی کا
طویل رات کی تنہائیاں نہیں ہے رنگ
ابھی ہوا نہیں شاید لہو جوانی کا
حیات و موت کی حد میں ہیں ولولے چپ چاپ
گزر رہے ہیں دبے پاؤں قافلے چپ چاپ
اختر الایمان
No comments:
Post a Comment