Sunday, 25 December 2016

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا

لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا
جس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیا
دیکھنا مغرب کی جانب یہ شفق کا پھولنا
ڈوبتے سورج نے سونے میں سُہاگا کر دیا
زندگی اور موت میں اک عمر سے تھی کشمکش
وقت پر دو ہچکیوں نے پاک جھگڑا کر دیا
اک شرارہ سا قریبِ شمع جا کر مل گیا
آتشِ پروانہ نے شعلے کو دو گنا کر دیا
بلبلِ تصویر ہوں اب بولنا ہے ناگوار
تیری اس ہنگامہ آرائی نے چُپکا کر دیا
اس کو کہتے ہیں لگی پروانے جل بجھ ڈوب مر
روتے روتے آخر شمع نے سویرا کر دیا
دے دیا آنکھیں لڑا کے اس پری پیکر نے جام
میں نشے میں چور تھا ہی اور اندھا کر دیا
کیا گرامی ہستیاں ہیں حضرتِ عثمان و شاد
شاعرؔ ان دونوں نے دنیا میں اجالا کر دیا

آغا شاعر قزلباش

No comments:

Post a Comment