لاکھ لاکھ احسان جس نے درد پیدا کر دیا
جس نے اس دل کو ہتھیلی کا پھپھولا کر دیا
دیکھنا مغرب کی جانب یہ شفق کا پھولنا
ڈوبتے سورج نے سونے میں سُہاگا کر دیا
زندگی اور موت میں اک عمر سے تھی کشمکش
اک شرارہ سا قریبِ شمع جا کر مل گیا
آتشِ پروانہ نے شعلے کو دو گنا کر دیا
بلبلِ تصویر ہوں اب بولنا ہے ناگوار
تیری اس ہنگامہ آرائی نے چُپکا کر دیا
اس کو کہتے ہیں لگی پروانے جل بجھ ڈوب مر
روتے روتے آخر شمع نے سویرا کر دیا
دے دیا آنکھیں لڑا کے اس پری پیکر نے جام
میں نشے میں چور تھا ہی اور اندھا کر دیا
کیا گرامی ہستیاں ہیں حضرتِ عثمان و شاد
شاعرؔ ان دونوں نے دنیا میں اجالا کر دیا
آغا شاعر قزلباش
No comments:
Post a Comment