صحنِ گلشن میں چلی پھر کے ہوا بسم ﷲ
چشم بد دور بہار آئی ہے کیا بسم ﷲ
مصحف رخ پہ ترے ابروئے پیوستہ نہیں
مو قلم سے یدِ قدرت نے لکھا بسم ﷲ
اس قدر تھا وہ نشہ میں کہ یکایک جو گرا
میں نہ بولا پہ مرے دل نے کہا بسم ﷲ
زلف اس عارضِ رنگیں پہ بکھرنے جو لگی
بول اٹھی منہ سے وہیں بادِ صبا بسم ﷲ
آج گلشن میں ذرا پاؤں جو پھسلا اس کا
گل ہنسا، غنچے نے جلدی سے کہا بسم ﷲ
یار قاتل مرے جو جو کہ لگاتا تھا وار
لب پہ ہر زخم کے نکلے تھی صدا بسم ﷲ
شیشہ و ساقی و ساغر بھی حاضر ہیں نظیرؔ
مے کشی کیجئے اب دیر ہے کیا بسم ﷲ
نظیر اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment