دوری میں قمر کی جب آتی ہے چاندنی
خوابیدہ حسرتوں کو جگاتی ہے چاندنی
مہ آسماں پہ ہوتا ہے دیکھ اس کو شرمسار
روۓ زمیں پہ ٹھوکریں کھاتی ہے چاندنی
کی یکدلی ہے، ہم نے جو کہہ بھیجا اے نظیرؔ
سن کر، پیامبر سے کہا، جا کے تُو یہ کہہ
البتہ اپنا جی بھی کڑہاتی ہے چاندنی
گر ہم بغیر، واں شبِ مہ سے ہو تم خفا
تو تم بغیر، یاں کسے بھاتی ہے چاندنی
نظیر اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment