Sunday, 25 December 2016

دوری میں قمر کی جب آتی ہے چاندنی

دوری میں قمر کی جب آتی ہے چاندنی
خوابیدہ حسرتوں کو جگاتی ہے چاندنی
مہ آسماں پہ ہوتا ہے دیکھ اس کو شرمسار
روۓ زمیں پہ ٹھوکریں کھاتی ہے چاندنی
کی یکدلی ہے، ہم نے جو کہہ بھیجا اے نظیرؔ
تم بِن ہمارے دل کو ستاتی ہے ہے چاندنی
سن کر، پیامبر سے کہا، جا کے تُو یہ کہہ
البتہ اپنا جی بھی کڑہاتی ہے چاندنی
گر ہم بغیر، واں شبِ مہ سے ہو تم خفا
تو تم بغیر، یاں کسے بھاتی ہے چاندنی

نظیر اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment