لو وہ بھی چل دیئے جنہیں اپنا کہا بہت
جن سے سدا خلوصِ محبت رہا بہت
خواہش تِرے حصول کی اب غیر کو نصیب
ہم نے تو یہ عذابِ کشا کش سہا بہت
طوفانِ اشک خوں نہیں سیلِ شراب رنگ
خوش ہو نہ اسکی اک نگہِ لطف پر رقیب
ہم پر یہ التفات رہا بارہا بہت
صحبت نیاز و ناز کی تا دیر رہ چکی
پھر کامیاب بھی یہ گہے درجہا بہت
کافی رہی ہے اس چمنِ حسن کی بہار
تو بھی لیا ہے طائرِ دل چہچہا بہت
دلچسپ اس حسیں کا فریبِ وفا سہی
کر دی ہے اب کے اس نے مگر انتہا بہت
ہم کو مآلِ عشق یہ معلوم تھا، مگر
ہم نے سنا نہ خود سے اگرچہ کہا بہت
شوکتؔ ہو کیوں ملول، اگر دور ہو گیا
وہ شخص جو قریب نہ یوں بھی رہا بہت
شوکت واسطی
No comments:
Post a Comment