Saturday, 10 July 2021

چین کی بستیاں جلا دی ہیں

 چَین کی بستیاں جلا دی ہیں

تیری یادیں بہت فسادی ہیں

گھر میں فاقہ ہے اور بچے بھی

دیر تک جاگنے کے عادی ہیں

خواب سب دفن کر کے آنکھوں تلے

تم نے نیندیں مِری جگا دی ہیں

دی ہے دیوار کو سزا میں نے

تیری تصویریں سب ہٹا دی ہیں

گر گِرے ایک، سو نکلتے ہیں

میرے آنسو بھی اتحادی ہیں


حذیفہ ہارون

No comments:

Post a Comment