Friday, 6 October 2023

تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے

 تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے

جیتے جی غیر کا ہو تو ایسا نہیں ایسا نہیں

وہ دور جا چکا کہیں یاد اس کی رہ گئی یہاں

اب زخم دل تو ٹھیک ہے پر داغ دل گیا نہیں

اہل خرد کی بات میں دم تو ہے اے دیوانگی

میں اس کا کیوں ہوں آج بھی، وہ جو مِرا رہا نہیں

تیری خوشی ہے یہ اگر، آمین ہے اے جان جاں

یعنی تُو اب مِرا نہیں، یعنی میں اب تِرا نہیں

یوں گلشن حیات سے اس کے لبوں کے رنگ گئے

دامن دل امید کا پھیلا رہا، بھرا نہیں

دکھ یہ نہیں چراغ دل، کیوں غم کی شام بجھ گیا

دکھ یہ ہے دور دور تک، جھونکا نہیں، ہوا نہیں

زخمی ہے دل تو روئیے، ٹوٹے ہیں خواب تڑپئیے

سانول! صلٰوہ عشق ہے، اس کی کوئی قضا نہیں


سانول حیدری

No comments:

Post a Comment