تو مر چکے تو ٹھیک ہے میں مر چکوں تو ٹھیک ہے
جیتے جی غیر کا ہو تو ایسا نہیں ایسا نہیں
وہ دور جا چکا کہیں یاد اس کی رہ گئی یہاں
اب زخم دل تو ٹھیک ہے پر داغ دل گیا نہیں
اہل خرد کی بات میں دم تو ہے اے دیوانگی
میں اس کا کیوں ہوں آج بھی، وہ جو مِرا رہا نہیں
تیری خوشی ہے یہ اگر، آمین ہے اے جان جاں
یعنی تُو اب مِرا نہیں، یعنی میں اب تِرا نہیں
یوں گلشن حیات سے اس کے لبوں کے رنگ گئے
دامن دل امید کا پھیلا رہا، بھرا نہیں
دکھ یہ نہیں چراغ دل، کیوں غم کی شام بجھ گیا
دکھ یہ ہے دور دور تک، جھونکا نہیں، ہوا نہیں
زخمی ہے دل تو روئیے، ٹوٹے ہیں خواب تڑپئیے
سانول! صلٰوہ عشق ہے، اس کی کوئی قضا نہیں
سانول حیدری
No comments:
Post a Comment