بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی
چڑیوں کو پھر شجر کی ضرورت نہیں رہی
پہلی نظر میں یار مجھے حفظ ہو گیا
سو دوسری نظر کی ضرورت نہیں رہی
برسوں کی دوڑ دھوپ سے گھر تو بنا لیا
پھر یوں ہوا کہ گھر کی ضرورت نہیں رہی
رو دھو کے ایک دن آنسو مِرے خشک ہو گئے
پھر مجھ کو چشمِ تر کی ضرورت نہیں رہی
ڈر تو فقط یہی تھا کہیں کھو نہ جائے تُو
تُو کھو گیا تو ڈر کی ضرورت نہیں رہی
ویرانیوں کی ریت سے گھر بھر گیا مِرا
صحراؤں کے سفر کی ضرورت نہیں رہی
اے زندگی! بھلا تجھے کیسے بتاؤں میں
تُو میری عمر بھر کی ضرورت نہیں رہی
رحمان فارس
No comments:
Post a Comment