Thursday, 12 August 2021

بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی

 بے گھر ہوئیں تو گھر کی ضرورت نہیں رہی

چڑیوں کو پھر شجر کی ضرورت نہیں رہی

پہلی نظر میں یار مجھے حفظ ہو گیا

سو دوسری نظر کی ضرورت نہیں رہی

برسوں کی دوڑ دھوپ سے گھر تو بنا لیا

پھر یوں ہوا کہ گھر کی ضرورت نہیں رہی

رو دھو کے ایک دن آنسو مِرے خشک ہو گئے

پھر مجھ کو چشمِ تر کی ضرورت نہیں رہی

ڈر تو فقط یہی تھا کہیں کھو نہ جائے تُو

تُو کھو گیا تو ڈر کی ضرورت نہیں رہی

ویرانیوں کی ریت سے گھر بھر گیا مِرا

صحراؤں کے سفر کی ضرورت نہیں رہی

اے زندگی! بھلا تجھے کیسے بتاؤں میں

تُو میری عمر بھر کی ضرورت نہیں رہی


رحمان فارس

No comments:

Post a Comment