Friday, 5 November 2021

شجر سہمے ہوئے ہیں اور اداسی چھا رہی ہے

 شجر سہمے ہوئے ہیں اور اداسی چھا رہی ہے

دواروں پر بدن کی خامشی لہرا رہی ہے

پرندہ آگ کا بیٹھا ہوا ہے لکڑیوں پر

دھوئیں کی برف ہے، ٹھنڈی ہوا سی آ رہی ہے

دھواں ہے، اوس ہے اور راکھ ہے نظروں کے آگے

کوئی تصویر جیسے آئینہ پگھلا رہی ہے

ہماری نیند آنکھوں میں کہیں ٹھہری ہوئی ہے

اور اک تعبیر ہے جو خواب کو پھیلا رہی ہے

اندھیرے میں نظر کی پھڑپھڑاتی فاختہ ہے

دریچے سے کوئی آہٹ سرکتی جا رہی ہے


بابر زیدی

No comments:

Post a Comment